بھائی چارا

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - اخوت، بھائی کا سارشتہ، دوستی، بھائی بندوں کا سا تعلق۔ "اب دونوں میں دوستی اور بھائی چارا ہو گیا۔"      ( ١٩٤١ء، الف لیلہ و لیلہ، ٣٩٨:٢ ) ٢ - کھیت یا زمین جو رشتہ دار مشترکہ جوتیں یا بوئیں۔ (جامع اللغات، 535:1)

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'بھائی' کے بعد فارسی زبان کا لاحقۂ 'چارا' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ١٨٠٢ء کو "باغ و بہار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اخوت، بھائی کا سارشتہ، دوستی، بھائی بندوں کا سا تعلق۔ "اب دونوں میں دوستی اور بھائی چارا ہو گیا۔"      ( ١٩٤١ء، الف لیلہ و لیلہ، ٣٩٨:٢ )